15 مارچ 2015 - 12:11
فلسطینی بچوں پر صیہونی حکومت کے وحشیانہ مظالم جاری

صیہونی حکومت نے فلسطینیوں خاص طور پر بچوں کے خلاف جارحانہ اور پرتشدد اقدامات میں اضافہ کر دیا ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ بیت المقدس میں انسانی حقوق کے ایک سرگرم کارکن ساریت میکائیلی نے صیہونی فوجیوں کے وحشیانہ اقدامات کی تصاویر شائع کی ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیلی فوجی ایک فلسطینی بچے کو گرفتار کرنے کے لیے پولیس کے کتوں کو بے رحمی کے ساتھ اس پر چھوڑ دیتے ہیں۔ ان تصاویر میں دکھایا گیا ہے کہ بچہ کتوں کے حملے سےبری طرح زخمی ہو جاتا ہے جس کے بعد صیہونی فوجی اسے گرفتار کر لیتے ہیں۔ دریں اثنا فلسطینی ذرائع نے خبر دی ہے کہ اسرائیلی جیلوں میں فلسطینی قیدیوں کو سخت جسمانی ایذائیں دی جا رہی ہیں۔ صیہونی جیل میں قید اٹھائیس سالہ نوجوان منصور یوسف محمد الشحاتیت کے اہل خانہ نے کہا ہے کہ وہ جیل میں سخت ایذائیں تحمل کرنے اور کال کوٹھری میں رکھے جانے کی بنا پر اپنا دماغی توازن کھو چکا ہے۔ اسرائیل کے ٹی وی چینل دو نے بھی صیہونی جیلوں کے حالات کے بارے میں ایک تصویری رپورٹ نشر کی ہے جو فلسطینی قیدیوں کی افسوس ناک صورت حال کی عکاسی کرتی ہے۔ اس ٹی وی چینل نے اپنی رپورٹ میں اس بات اعتراف کیا ہے کہ اسرائیلی فوجیوں کا فلسطینی قیدیوں حتی بیمار اور بوڑھے قیدیوں کے ساتھ سلوک غیرانسانی اور عالمی اصولوں کے منافی ہے اور قیدیوں کو مسلسل ایک جیل سے دوسری جیل میں منتقل کیا جاتا ہے اور یہی امر بیمار فلسطینی قیدیوں کی حالت مزید خراب ہونے کا باعث بنتا ہے۔ صیہونی حکومت کی جیلوں کے بعض عہدیداروں نے کہا ہے کہ صیہونی جیلوں کا عملہ فلسطینی قیدیوں کے حوصلوں کو پست کرنے کے لیے انھیں ضروری سہولتوں و امکانات سے محروم کرتا ہے۔ یہ ایسے حالات میں ہے کہ جب اقوام متحدہ سے وابستہ فلسطینی پناہ گزینوں کی امداد کے ادارے آنروا کے سربراہ رابرٹ ٹرنر نے غزہ کے محاصرے کے مکمل خاتمے پر زور دیا ہے۔ انھوں نے غزہ کے جنوبی شہر رفح میں ایک طبی مرکز کی افتتاحی تقریب میں کہا کہ اسرائیل کو غزہ پٹی کا محاصرہ ختم کرنا چاہیے تاکہ یہ ایجنسی غزہ کے فلسطینیوں کی ضروریات کو پورا کر سکے۔ رابرٹ ٹرنر نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ کے ادارے انروا کو اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے اور اپنے منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ضروری ہے کہ اسرائیل غزہ کا محاصرہ ختم کرے۔ واضح رہے کہ صیہونی حکومت نے غزہ میں اسلامی مزاحمت کو شکست دینے کے لیے دو ہزار سات سے اس علاقے کا سخت محاصرہ کر رکھا ہے۔ دوسری جانب فلسطین کے اوقاف اور مذہبی امور کے وزیر نے صیہونی حکومت کے وزیر خزانہ کےذریعے مسجد حضرت ابراہیم علیہ السلام کی توہین کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ یہ اقدام انتہائی اشتعال انگیز ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲